نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


ایرانی صدر :

 نیوزنور28جون/اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایرانی عوام نے منہ زور اور جارح کے سامنے کبھی بھی سر تسلیم خم نہیں کیا اور نہ کرے گی کہا کہ ایرانی عوام اپنے عزم و حوصلے اور جدوجہد سے امریکہ کو شکست دے گی۔

عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر’’ حجت الاسلام حسن روحانی‘‘ نے حکومت کی اہم شخصیات اورڈائریکٹروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس معاہدے سےنکلے ہوئے تقریبا 51 روز ہو گئے ہیں دنیا کے تقریبا سبھی ممالک نے امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کی مذمت کی اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا ہے اور پابندیوں سے ڈر گیا ہےبلکہ سب نے یہی کہا کہ ایران نے عقل و منطق سے فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے جوہری معاہدے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور صیہونی لابی اور اسی طرح علاقے میں ایران کے بد خواہوں نے یہ سوچا تھا کہ امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علحٰیدہ ہونے کے بعد ایران بھی چند گھنٹوں کے بعد اس عالمی معاہدے سے نکل جائیگا لیکن ایران نےعجلت اور جذبات میں آئے بغیر فیصلہ کیا۔

ایران کے صدر  نے کہا کہ جب ایران نے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنے یورپی ممالک، روس اور چین کی درخواست پر جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے انہیں ایک موقع دیتا ہے تو امریکی اور صیہونی حکام اور اسی طرح علاقے میں ایران کے بد خواہوں کے اوسان خطا ہو گئے اور انہیں ایرانی  قوم کی تدبیر کی ایسی کاری ضرب لگی کہ وہ اس کی فکر بھی نہیں کرتے تھے۔

حجت الاسلام حسن روحانی نے مزیدکہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کے نئے مؤقف کے خلاف ڈٹ جانےکیلئے تین آپشن موجود تھے یعنی امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے، اندرونی اختلافات کے ساتھ امریکہ کا مقابلہ کیا جائے اور اندرونی اختلافات کے بغیر اور قومی عزت و سربلندی کے ساتھ امریکہ کا مقابلہ کریں لیکن ایرانی قوم نے تیسرے آپشن یعنی اندرونی اختلافات کے بغیر اور قومی عزت و سربلندی کے ساتھ امریکہ کا مقابلہ کرنے کا انتخاب کیاجسے ہم امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی