نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
تازہ ترین تبصرے
  • ۸ جولای ۱۸، ۱۴:۲۰ - Siamak Bagheri
    :)


لبنانی تجزیہ کار:

نیوزنور4 جولائی/لبنان کے ایک معروف تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک  شامی مہاجرین کے مسئلے کو ہتھیار بناکر دمشق حکومت  پرسیاسی اوراقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق مقامی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں ’’للی نکولا‘‘نےکہاکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک  شامی مہاجرین کے مسئلے کو ہتھیار بناکر دمشق حکومت پر سیاسی اوراقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ لبنان ،اردن ،ترکی اوردیگر ممالک میں  شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی راہ میں وہی ممالک رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں جوگذشتہ سات سالوں سے شام کی قانونی حکومت کا تکفیری دہشتگردوں کے ذریعے گرانے کی کوشش کرتے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شام کے دشمن ممالک  نےنہ صرف اس ملک کی عوام کے خلاف اپنی  سازشیں جاری رکھی ہوئی ہیں بلکہ  وہ اسلامی مقاومت  حزب اللہ کا شام سے  انخلا  کو ممکن بنانے کیلئے اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کے وطن واپسی  کویقینی بنانے میں اقوام متحدہ کی ایجنسی براہ پناہ گزین کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہاکہ مذکورہ ادارہ ہمیشہ  مغربی ایجنڈوں کو نافظ کرنے کی کوشش کرتار ہا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ میں شام کے ہمسایہ ممالک  اور یورپ کہ جہاں شامی مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں سے براہ راست رابطہ رہا ہےاور ان کی شام واپسی کی خواہش ہے تاہم اس راہ میں ان کیلئے  رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ براہ مہاجرین نے اپنے حالیہ رپورٹ میں کہاکہ شام اور لبنان کی حکومت کے درمیان معاہدے کی تحت گذشتہ ایک سال سے  کئی ہزار مہاجرین  شام واپس لوٹ آئے ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنعا کے مطابق  اکثر مہاجرین دارالحکومت دمشق کے جنوبی علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں ۔

واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی