نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
تازہ ترین تبصرے
  • ۸ جولای ۱۸، ۱۴:۲۰ - Siamak Bagheri
    :)


معروف عرب روز نامہ:

نیوز نور04جون/ایک معروف عربی روزنامہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی اور اماراتی یہ سمجھتے تھے کہ الحدیدہ پر قبضے سے یمن کا مغربی ساحل ان کے کنٹرول میں آجائے گا اور اس طرح انہیں انصار اللہ پر زبردست اور فوجی برتری حاصل ہو جائے گی اور پھر وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لا کر جو چاہیں گے منوا لیں گے لیکن ان کا یہ مقصد شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

عالمی اردو خبر رساں ادارے ’’نیوز نور‘‘ کی رپورٹ کے مطابق معروف عربی روزنامہ’’ رائے الیوم ‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ سعودی اور اماراتی یہ سمجھتے تھے کہ الحدیدہ پر قبضے سے یمن کا مغربی ساحل ان کے کنٹرول میں آجائے گا اور اس طرح انہیں انصار اللہ پر زبردست اور فوجی برتری حاصل ہو جائے گی اور پھر وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لا کر جو چاہیں گے منوا لیں گے لیکن ان کا یہ مقصد شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

روزنامہ کے مطابق جون کو رمضان المبارک کے آخری دنوں میں الحدیدہ پر حملہ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ چند دنوں کے اندر الحدیدہ پر قبضہ کر لیں گےاور اس آپریشن کا نام گولڈن وکٹری رکھا گیا تھالیکن اب یہی متحدہ عرب امارات ہے جو الحدیدہ سے فرار کے فراق میں ہے ۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اس کو امارات کے ایک طرح سے اعتراف شکست سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ اماراتی افواج الحدیدہ میں آمنے سامنے کی جنگ سے خوفزدہ ہیں اس لئے اس نے فوجی اقدامات روکنے کا اعلان کیا ہےاورامارات کی کمان میں لڑنے والی فوج گلی کوچوں میں جنگ کے لئے تیار نہیں اسلئےاماراتیوں نے جنگ بند کرنے کو گلی کوچوں میں جنگ لڑنے پر ترجیح دی ہے۔

 روز نامہ کے مطابق الحدیدہ پر قبضے کے لئے جنگ کے آغاز کے موقع پر اماراتی کمانڈر مطمئن تھے کہ انہیں تیز رفتار کامیابی حاصل ہوگی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انسانی المیے کے رونما ہونے کے اقوام متحدہ کی طرف سے الارم کودرخور اعتنا نہ سمجھاکیونکہ اماراتی اور ان کے کرائے کے فوجی غرور میں تھے کہ انہیں بہت جلد انصاراللہ کے مقابلے میں کامیابی حاصل ہوگی چونکہ ان کے پاس زبردست فوجی قوت موجود تھی اور ان کے مقابلے میں انصار اللہ اور ان کے حامیوں کے پاس بہت کم وسائل تھے۔

رپورٹ کے مطابق تمام دنیا اس حقیقت سے آشنا ہےکہ سعودی اتحاد کو امریکہ، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے اس حملے کے آغاز میں تو حملہ آوروں کی طرف سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے اور یہ ظاہر کیا گیا کہ ان کی افواج تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہےیہاں تک کہ الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر اتحادیوں کے قبضے کی خبر عالمی اداروں نے نشر کر دی جو بعد میں غلط ثابت ہوئی اور بعد میں یمنی فوجیوں نے ہوائی اڈے کے مختلف علاقوں میں کھڑے ہو کر انٹرویو بھی دیئے اور تصویریں بھی کھینچوائیں اور دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ اتحادیوں کا پراپیگنڈا باطل ہے اور یمنی عوام اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ یمن کی جنگ کے حیران کن پہلو سامنے آرہے ہیں اور اس کی وجہ انصار اللہ اور اس کے حامی عوامی رضاکاروں کی استقامت ہے جو اتحادیوں کے حملے کا جراءت مندی سے دفاع کر رہے ہیں جبکہ علاقے اور مغرب کے دسیوں ممالک حملہ آوروں کی پشت پر موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگ جوں جوں طویل ہوتی چلی جا رہی ہے اس کا نقصان حملہ آوروں کو زیادہ ہو رہا ہے، ان کے اخراجات بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ان کے محاذ پھیل رہے ہیں، ان کی افواج میں مایوسی پھیل رہی ہے اور کامیابی کی اُمید دم توڑ رہی ہے۔

 معروف عربی روزنامہ  کے مطابق سعودی اور اماراتی یہ سمجھتے تھے کہ الحدیدہ پر قبضے سے یمن کا مغربی ساحل ان کے کنٹرول میں آجائے گا اور اس طرح انہیں انصار اللہ پر زبردست اور فوجی برتری حاصل ہو جائے گی پھر وہ انہیں مذاکرات کی میز پر لا کر جو چاہیں گے منوا لیں گے لیکن ان کا یہ مقصد حاصل نہ ہوسکااور اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ انصار اللہ کی لغت میں جھکنے کا لفظ ہی نہیں ہے ایک طرف مختلف محاذوں پر انصار اللہ اور اس کے حامی عوامی رضاکاروں کی شجاعت کے قصے ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی حقیقت یمنی عوام پر دن بدن زیادہ آشکار ہوتی چلی جا رہی ہےاور یمنی قبائل زیادہ یکسو ہو کر انصار اللہ کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یمنی قبائلوں نے2 جولائی کو سنہان اور بنی بہلول کے علاقے میں ایک ریلی منعقد کی جس  میں صنعاء کے گورنر حنین قطیقہ نے بھی شرکت کرکےاس بات پر زور دیا کہ یمنی فوج کو قوی کرنے اور جارحین کے مقابلے کے لئے اجتماعی قوت کو میدان میں لایا جائےاور شرکاء نے انصار اللہ اور رضاکاروں کی طرف سے جارحین کے خلاف جراءت مندی کا مظاہرہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور یمنی فوج کی کامیابیوں کو سراہاجس سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق کی الحشد الشعبی کی طرح یمن میں بھی مختلف قبائل پر مشتمل عوامی فوج پہلے سے زیادہ جذبے کے ساتھ تشکیل پا رہی ہےاوراب ایسا لگتا ہے کہ یمنی قبائل کے بڑھتے ہوئے اتحاد اور انصار اللہ پر اعتماد کا نتیجہ وہی ہوگا جو اس سے پہلے عراق میں داعش کے خلاف نکل چکا ہے اسی لئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یمن میں اب پانسہ پلٹنے کو ہے۔

قابل ذکرہے کہ الحدیدہ یمن کی مغربی ساحلی بندگاہ جو کہ اہل یمن کیلئے ریڈ کی ہڈی کا کام کرتی ہے  پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحادیوں نے 13 جون 2018ء کو حملہ کیااور یہی وہ بندرگاہ ہے جس کے ذریعے سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ امداد پہنچ سکتی تھی یا میڈیکل ایڈ پہنچائی جا سکتی تھی البتہ ہر کشتی اور یمن کی طرف آنے والی ہر چیز کی اتحادی افواج نگرانی بھی کرتی رہی ہیں اور تلاشی بھی لیتی رہی ہیں اس کے باوجود یمنیوں نے جس استقامت اور بہادری سےجارحیت کا مقابلہ کیا ہے اس نے جراءت اور شہامت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔

واضح رہے کہ مئی 2015ء سے یمن پر اتحادیوں کی یلغار کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں  انہوں نے ہر طرف تباہی پھیلائی ہےاور عالمی ادارے یمنی عوام کی بھوک، پیاس اور مظلومیت کی دہائی دے دے کر تھک گئے ہیں لیکن چونکہ یہ حملہ بڑی استعماری طاقتوں کے ایماء پر جاری ہے اس لئے انسانی حقوق کے ادارے اپنے جواز کو ثابت کرنے کے لئے صرف واویلا ہی کرسکتے ہیں۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی