نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


اسٹریٹجک معاملات کے ہندوستانی ماہر:

نیوزنور05 جولائی/اسٹریٹجک معاملات کے ایک سینئر ہندوستانی ماہر نے کہا ہے کہ  اپنی آزاد پالیسیوں کی بنا پر ہندوستان ایران پر امریکہ کی طرف سےعائدکی جانے والی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاسکتا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق اسٹریٹجک معاملات کے سینئر ہندوستانی ماہر ’’اشوک در‘‘جوکہ کلکتہ ریسرچ فونڈیشن کے ڈائریکٹر بھی  ہیں نے ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں کہاکہ  اپنی آزاد پالیسیوں کی بنا پر ہندوستان ایران پر امریکہ کی طرف سےعائدکی جانے والی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ  امریکہ نے  دنیا کے باقی ممالک کو  ایران سے خام تیل کی خریداری نہ کرنے کی جو صلاح دی ہے وہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف اورعقل سے عاری ہے اورہندوستان کسی ایک طاقتور ملک کی دوسرے ملک پر لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ  ایک خودمختار ملک کے طورپر ہندوستان صرف اورصرف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طرف سے قراردادوں اورپابندیوں  پر عمل کرسکتا ہے۔

انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ہندوستان  ایران پر امریکی پابندیوں کو  خاطر میں نہ لاتے ہوئے تہران کےساتھ اپنی تجارت کو  جاری رکھے گا۔

ممتاز تجزیہ نگار  نے کہاکہ ہندوستان کے مشرق وسطیٰ کے  خام تیل کے برآمد کاروں کےساتھ  گہرے اورطویل تعلقات ہیں اور ایران ان سب میں ممتاز ہے اس لئے ہندوستان  ایران کےساتھ اپنی تجارت جاری رکھےگا۔

ایران اورہندوستان کے درمیان چابہار بندرگاہ کی شراکت داری پر امریکی پابندیوں کے اثر پر تبصرہ کرتے ہوئےانہوں نے کہاکہ چابہار بندرگاہ  نہ صرف ہندوستان کو افغانستان کے ساتھ  جوڑنے میں ایک کلیدی رول ادا کرسکتا ہے بلکہ یہ دوسرے ممالک کو بھی جوافغانستان کےساتھ تجارت کرنے کے خواہاں ہیں متبادل راستہ فراہم کرسکتا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ  اگرچہ چابہار بندرگاہ کے منصوبے پر ہندوستان کی ایک کثیر رقم خرچ ہوتی ہے تاہم  یہ بندرگاہ شمالی جنوبی بین الاقوامی نقل وحمل کیلئے ایک گذرگاہ فراہم کرسکتا ہے  اور یہ منصوبہ امریکی غیر قانونی پابندیوں کے دائرے میں نہیں آتا ہے ۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی