نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
آرشیو
تازہ ترین تبصرے
  • ۸ جولای ۱۸، ۱۴:۲۰ - Siamak Bagheri
    :)
  • ۲۰ ژوئن ۱۸، ۱۴:۳۵ - Siamak Bagheri
    :)


نوم چومسکی:

نیوزنور 09 جولائی/امریکہ کے ایک کہنہ مشق تجزیہ کار ،سیاسی مبصر اورماہر لسانیات نےجامع مشترکہ ایکشن پلان سے امریکی علحیٰدگی اوراسکی خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ٹرمپ انتظامیہ کا شرمناک رویہ  عالمی سطح پر امریکہ کے تنہا پڑنے  اورایران کی حیثیت کو مزید بڑھانے کا مؤجب بنےگا۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ’’نوم چومسکی‘‘نےجامع مشترکہ ایکشن پلان سے امریکی علحیٰدگی اوراسکی خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  ٹرمپ انتظامیہ کا شرمناک رویہ  عالمی سطح پر امریکہ کے تنہا پڑنے  اورایران کی حیثیت کو مزید بڑھانے کا مؤجب بنےگا۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ کی طرف سے دنیابھر کے ممالک کو ایرانی تیل نہ خریدنے کی دھمکی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ  امریکہ خود کو ایک عالمی غنڈہ سمجھتا ہے  اوربدقسمتی سے یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب امریکہ  دنیا کے ممالک کو دھمکا رہا ہے۔

جوہری ٹیکنالوجی کے مسئلے  پرامریکہ کی دوغلی پالیسی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ امریکہ ایک طرف  اسرائیل جیسی غاصب صیہونی رژیم  کے جوہری پروگرام کو  آگے بڑھانے میں اس کی مدد کررہا ہے جبکہ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران  جو این ٹی پی کا دستخطی ہےکو پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق سے  محروم رکھنا چاہتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ افغانستان جہاں  تمام علاقائی ممالک خاص کر ایران اور پاکستان امن کے خواہاں ہیں اور جہاں امریکہ کی مسلط کردہ جنگ 17ویں سال میں داخل ہورہی ہے  کیابین الاقوامی برادری اپنے مقاصد کی حصولی میں ناکام ہوئی ہےانہوں نے کہاکہ  پاکستان ،امریکہ اوراسلامی جمہوریہ ایران کے افغانستان میں اہداف مختلف ہیں امریکی قیادت میں بین الاقوامی برادری یقینی طورپر اس جنگ زدہ ملک میں ناکام ہوئی ہے۔

 امریکہ اورچین کے درمیان  ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث موجودہ تجارتی جنگ  کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ٹرمپ اپنے حامیوں کو یہ باور کرانے چاہتے ہیں کہ ا کیلے وہ امریکہ کی ایسی شخصیت ہیں  جو انہیں دشمنوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

امریکہ

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی