نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor

نیوزنور بین الاقوامی تحلیلی اردو خبررساں ادارہ

نیوزنور newsnoor
موضوعات
تازہ ترین تبصرے
  • ۱۷ اکتبر ۱۸، ۲۲:۱۵ - امیرحسین
    ((:


فلسطینی تجزیہ نگار:

 نیوزنور16جولائی/فلسطین کے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں اراضی ہتھیانے کے لیے طرح طرح کے حربے اور ڈھونگ رچانے میں سرگرم ہےاور کبھی فلسطین کے کسی علاقے کوفوجی علاقہ قرار دے کراس پرقبضہ کرلیا جاتا ہے اوراراضی کے مالکان کو اس تک رسائی کی اجازت نہیں دی جاتی اور کبھی جنگی مشقوں کی آڑ میں فلسطینیوں کی اراضی ہتھیائی جاتی ہے۔

 عالمی اردو خبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تجزیہ نگار اور آبی امور کے ماہر’’ احمد عویس اور ڈاکٹر زائر‘‘ نے مشرقی القدس میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں صہیونی ریاست کے مکروہ حربے کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں اراضی ہتھیانے کے لیے طرح طرح کے حربے اور ڈھونگ رچانے میں سرگرم ہےاور کبھی فلسطین کے کسی علاقے کوفوجی علاقہ قرار دے کراس پرقبضہ کرلیا جاتا ہے اوراراضی کے مالکان کو اس تک رسائی کی اجازت نہیں دی جاتی اور کبھی جنگی مشقوں کی آڑ میں فلسطینیوں کی اراضی ہتھیائی جاتی ہے الغرض صہیونی ریاست غرب اردن کے سیکٹر ’C‘ اور وادی اردن میں کئی دوسرے نام نہاد حربوں کی آڑ میں اراضی پرقبضہ جما رہی ہےاور ان روایتی غاصبانہ ہتھکنڈوں میں آبی وسائل بھی ایک خطرناک صہیونی غاصبانہ حربہ ہےاور اس نئے حربے کے ذرئعے فلسطینی علاقوں میں پانی کی تلاش اور آبی وسائل میں اضافے کے منصوبوں کی آڑ میں فلسطینیوں کو ان کی اراضی سے بے دخل کردیا جاتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ گوکہ ارض فلسطین میں آبی وسائل پرقبضے کے ہتھکنڈے بھی غیرقانونی اور ناجائز ہیں مگر ان کی آڑ میں آبی وسائل اپنی جگہ قیمتی فلسطینی رقبے پرقبضہ جمالیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ صہیونی ریاست نے گذشتہ صدی کی ستر کی دھائی میں یک تزویراتی منصوبے کا آغاز کیا جس کے تحت غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس کے تمام آبی ذخائر، قدرتی وسائل اور توانائی کے حامل ذخائر پرقبضے کا فیصلہ کیا گیا۔

موصوف تجزیہ کارنے کہا کہ مذکورہ منصوبے کا مقصد آبی وسائل پرقبضہ کرنا اور ہزاروں فلسطینیوں کو پانی جیسی قدرتی نعمت سے محروم کرنا ہےخاص طور پر کردلہ، بردلہ، عین البیضہ اور دسیوں دیگر فلسطینی قصبوں میں پانی کے وسائل کو ہتھیانے، پانی کے چشموں پر قبضہ کرنے اور زیرزمین پانی کے وسائل کو یہودی کالونیوں کے لیے استعمال کرنے کی گہری اور منصوبہ بند سازش شروع کی گئی۔

فلسطینی تجزیہ نگار کے مطابق وادی اردن کے شمالی علاقوں بردلہ میں آبی وسائل کی تلاش کی آڑ میں کھدائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیاہے فلسطینی بستیوں کو پانی فراہم کرنے والی 400 میٹر لمبی پائپ لائن تباہ وبرباد کردی گئی اور وادی اردن میں کئی دیہاتوں کے  فلسطینیوں کو پانی سے محروم کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وادی اردن میں بیشتر آبی وسائل پر صہیونی ریاست کا قبضہ ہے اور فلسطینی کسان، گلہ بانی کے پیشے سے وابستہ شہری اور ان کے مال مویشی پانی سے محروم ہیں۔

 عویس نے کہا کہ سنہ 1967ء میں صہیونی ریاست نے تمام آبی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کیا دریائے اردن سے بحر مردار تک تمام علاقوں حتیٰ کہ غزہ پٹی تک کے تمام آبی وسائل پر قبضہ کرلیا گیاایک طرف صہیونی ریاست فلسطینیوں کے قدرتی وسائل اور آبی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کررہا ہے اور دوسری طرف غزہ اور غرب اردن کے عوام کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کو یہ معلوم ہے کی مغربی کنارے میں تمام آبی وسائل اس کے زیرتسلط ہیں مگر اس کے باوجود فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

احمد عویس اور ڈاکٹر زائر نے زمید کہا کہ ایک طرف تو پانی کے وسائل پر صہیونی ریاست کا غاصبانہ قبضہ ہے اور دوسری طرف سیکٹر ’C‘ میں فلسطینی بستیوں اور شہروں میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی صہیونی ریاست تباہ کرنے کے لیے کوشاں ہےاور دیوار فاصل بھی اسی قسم  کا ایک حربہ ہے صہیونی ریاست غرب اردن میں دیوار فاصل کے ذریعے تیس سے چالیس کلو میٹر کی حدود پر فلسطینیوں کی پانی کی پائپ لائنوں کو تباہ کرچکا ہے۔

نظرات  (۰)

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں لکھا گیا ہے
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی